
ملک عزیز کے پسماندہ علاقوں میں سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کے لیے یہودونصاریٰ کی مختلف مشنریز دن رات مصروف عمل ہیں جبکہ اس کے مقابلے میں مسلمان کلمہ، نمازاوردیگر بنیادی دینی معلومات سے بے بہرہ ہیں اس نوعیت کو پیش نظر رکھتے ہوئے ادارہ معارف القرآن نے ملک کے پسماندہ علاقوںمیں مکاتب قرآنیہ قائم کئے جاچکے ہیں۔فی الحال مکاتب کا قیام سندھ بلوچستان اور آزادکشمیر کے پسماندہ علاقوں میں کیاگیا ہے۔ اللہ تعالٰی اپنے فضل وکرم سے (برکت عطا فرمائے۔(آمین)
طریقہ الحاق
• مکاتب کا قیام علاقے کی معروف دینی درسگاہ میں کیاجاتا ہے۔
• مکاتب کے لئے استاذ متعلقہ علاقے سے ہی منتخب کیاجاتا ہے۔
• مکاتب کے لئے استاذ کاتقرر ادارہ معارف القرآن مرکز سے کیاجاتاہے
• ادارہ ہی استاذ کو تربیت بھی دیتا ہے۔
قواعد وضوابط:
• مکاتب کے استاذ کے لئے ادارہ معارف القرآن کے مسلک ومشرب کی پابندی لازمی ہوتی ہے اور ایسی جماعتی وابستگی جو تعلیم میں مخل ہو قطعاً برداشت نہیں ہوتی۔
• مکاتب کے استاذ کا نصف مشاہرہ ادارہ معارف القرآن کے ذمے ہوتا ہے جبکہ بقیہ مشاہرہ متعلقہ ادارہ ادا کرتا ہے۔
• ایک مکتب میں حفظ کرنے والے طلبہ کی تعداد بیس ہوتی ہے۔
• مکاتب میں۱۳سال سے زائدعمرکے طالب علم داخل نہیں کئے جاتے۔
• مکاتب کا ہرماہ تعلیمی جائزہ ہوتا ہےجبکہ ہرتین ماہ بعد ادارہ معارف القرآن مرکز سے اساتذہ امتحان لینے کے لئے بھیجے جاتے ہیں۔
• مکاتب سےحفظ مکمل کرنے کے بعد ممتاز استعداد والےطلبہ کو ادارہ معارف القرآن، کراچی میں عصری ودینی تعلیم دیتا ہے۔




